ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / مودی کی جان خطرے میں بتاکر ہمدری کی لہر حاصل کرنے کے ہتھکنڈے اب پرانے ہوگئے؛  آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے اقلیتی شعبے کے نو منتخب صدر کا بیان

مودی کی جان خطرے میں بتاکر ہمدری کی لہر حاصل کرنے کے ہتھکنڈے اب پرانے ہوگئے؛  آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے اقلیتی شعبے کے نو منتخب صدر کا بیان

Wed, 27 Jun 2018 22:08:43    S.O. News Service

بنگلورو،27؍جون(ایس او نیوز)  آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے اقلیتی شعبے کے نئے صدر ندیم جاوید اس خبر پر کہ   وزیراعظم نریندر مودی کی جان خطرے میں ہے، طنز کرتے ہوئے  کہاکہ یہ سب ہتھکنڈے اب پرانے ہوچکے ہیں ، ان کےمطابق  گجرات اسمبلی کے ہر انتخاب سے پہلے ایسی رپورٹیں سامنے آتی رہی ہیں کہ مودی کی جان خطرے میں ہے اسی ہمدردی کی لہر میں مودی نے اپنا سیاسی الو سیدھا کرنے میں کامیاب ہوئے تھے ، لیکن اب ایسا کچھ نہیں ہوگا کیونکہ  ملک کے عوام اب ہوشیار ہوچکے ہیں۔

ندیم جاوید کے مطابق مرکز کی مودی حکومت ملک کو نفرت کے ایجنڈے سے چلانا چاہتی ہے۔ لیکن اس کی یہ کوشش ناکامی کا منہ دیکھ رہی ہے۔یکے بعد دیگرے انتخابات میں بی جے پی کی پسپائی اس بات کا ثبوت ہے کہ بی جے پی کے نفرت پر مبنی ایجنڈے کو ملک کے عوام نے مسترد کرنا شروع کردیا ہے۔ آنے والے لوک سبھاانتخابات میں ملک کی ہم خیال سیاسی جماعتیں فرقہ پرست بی جے پی کو اقتدار سے ضرور بے دخل کردیں گی۔

 اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ بی جے پی نے جب سے اقتدار سنبھالا ہے اس نے منظم طور پر ملک کے آئینی اداروں کو نقصان پہنچانے اور فاشیزم کو مضبوط کرنے کا کام کیا ہے۔ ملک کے عوام ہمیشہ سے انصاف پسند اور روادار رہے ہیں ، وہ اس طرح کی کوششوں کو کبھی کامیاب ہونے نہیں دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ پچھلے انتخابات میں سیکولر طاقتوں کے انتشار سے فائدہ اٹھاکر بی جے پی نے اقتدار حاصل کیا ہے۔ ملک میں ہوئی مجموعی ووٹنگ میں بی جے پی کو صرف 31فیصد ووٹ ملے اور اقتدار اس کا ہوگیا، جبکہ 69 فیصد ووٹ حاصل کرنے والے ادھر ادھر ٹھوکریں کھاتے پھرتے رہے۔ اس بار ہم خیال اور ترقی پسند سیاسی جماعتوں نے جو اتحاد قائم کیا ہے اس سے یہ توقع کی جارہی ہے کہ 2004جیسے حالات دوبارہ لوٹیں گے اور ملک میں ایک سیکولر اور انصاف پسند حکومت قائم ہوگی جس کی قیادت صدر کانگریس راہل گاندھی کے کندھوں پر ہوسکتی ہے۔ ریاست میں کانگریس جنتادل (ایس) مخلوط حکومت کے متعلق انہوں نے کہاکہ کانگریس نے ہمیشہ اقتدار پر ملک کے عوامی مفادات کے تحفظ کو مقدم رکھا ہے۔

کرناٹک میں فرقہ پرست بی جے پی کو اقتدار پر آنے سے روکنے کے لئے کانگریس نے زیادہ سیٹیں حاصل کرنے کے باوجود وزیراعلیٰ کی کرسی کو قربان کردیا اور جنتادل (ایس) کے ساتھ مل کر مخلوط حکومت قائم کرنے میں مدد دی۔ اقلیتوں کو درپیش حالات کے متعلق ندیم جاوید نے کہا کہ پورے ملک میں اقلیتوں کی تشویش یکساں ہے۔ موجودہ حکومت میں اقلیتوں کے لئے درپیش حالات دشوار گزار ہیں۔ کانگریس قیادت کو یقین ہے کہ یہ حالات ضرور سدھریں گے۔ انہوں نے کہاکہ کرناٹک کی مخلوط حکومت پر یہ زور دیا جائے گا کہ کانگریس اورجنتادل (ایس) نے انتخابات سے قبل ریاستی اقلیتوں سے جو وعدے کئے ہیں ان کو پوری دیانتداری سے نبھائیں۔

کرناٹک میں کانگریس کو مسلمانوں کی مکمل حمایت کے باوجود اقتدار میں حصے داری کے مرحلے میں ان کے ساتھ ناانصافی کے متعلق شکایت پر انہوں نے کہاکہ اس بات سے کسی کو انکار نہیں کہ کرناٹک میں کانگریس کو جتنی سیٹیں ملی ہیں ان میں سے بیشتر مسلمانوں کی حمایت سے حاصل ہوئی ہیں۔ یہ یقینی بنایا جائے گا کہ سماجی ، معاشی اور سیاسی سطحوں پر مسلمانوں کے ساتھ ناانصافی نہ ہونے پائے۔

انہوں نے کہاکہ آنے والے دنوں میں کانگریس پارٹی خاص طور پر اقلیتی شعبہ کانگریس کے ووٹ بینک کو مضبوط کرنے اور پارٹی کو بنیادی سطح پر منظم کرنے کے ساتھ ملک بھر میں پارٹی جن جماعتوں کے ساتھ اتحاد قائم کرے گی اس اتحاد کو مضبوط کرنے کے لئے کام کرے گا۔وزیراعظم مودی کی جان کو لاحق خطرے کے متعلق انہوں نے کہاکہ جب اس ملک کا وزیر اعظم ہی محفوظ نہیں ہے تو عام آدمی اس حکومت میں کس قدر محفوظ ہے اس کا اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔ دنیا کی بہترین سیکورٹی ایجنسیوں میں سے ایک ایس پی جی کے گھیرے میں رہنے والے مودی اگر اپنے آپ کو غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں اور ان کے وزراء کو بھی ان سے ملنے سے روکا جاتا ہے تو ملک میں فٹ پاتھ اور سڑکوں پر گھومنے والے عوام کی حالت کا کیا ہوگا اس کا انداز ہ لگانا مشکل نہیں۔

اس موقع پر کے پی سی سی اقلیتی شعبے کے چیرمین وائی سعید احمد نے اے آئی سی سی اقلیتی شعبے کے نئے چیرمین کا تعارف پیش کیا۔اس موقع کے پی سی سی جنرل سکریٹری آغا سلطان ، اقلیتی شعبے کے بنگلور سنٹرل کے چیرمین ہدایت اﷲ ، بنگلور نارتھ کے چیرمین فاروق پاشاہ، کے پی سی سی اقلیتی شعبے کے نائب صدر اسحاق سیٹھ اور دیگر عمائدین موجود تھے۔


Share: